Saturday, 18th August 2018

Balochi Academy

Home Site Map Feedback Contact us

urdu-logo


بلوچی اکیڈمی کا چیئرمین ممتاز یوسف کی زیر صدارت 57واں جنرل باڈی اجلاس نیوز ڈیسک

بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کا 57 واں مجلس عاملہ کا اجلاس مورخہ 6 اگست2017 کو اکیڈمی کمپلیکس کوئٹہ میں منعقد ہوا. اجلاس کی صدارت چیئرمین ممتاز یوسف نے کی. جنرل سیکرٹری شکور زاہد نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے گزشتہ سال کے دوران منعقد کیےگئے ادبی سرگرمیوں اور تقریبات، نشر واشاعت، مالی اخراجات ودیگر منصوبوں کے متعلق آگہی دی۔ جن میں انسائیکلوپیڈیا پروجیکٹ، بلوچی انگلش ڈکشنری، بلوچی زبان کو پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک نصاب میں پڑھانے، سالانہ ریسرچ جرنل، ایم فل و پی ایچ ڈی اسکالرشپ، بلوچی اِملا ، اصطلاحات ودیگر اقدامات اور مختلف ادبی سرگرمیاں ںشامل تھیں۔

گزشتہ سالوں کے دوران بلوچی اکیڈمی کی طرف سے چھاپے گئے سالانہ کیلنڈر کے بارے میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ کیلنڈر میں استعمال کیے گئے مہینے اور دنوں کے نام بلوچ اور بلوچی سے تعلق نہیں رکھتے لہٰذا اکیڈمی اس کیلنڈر سے دست برداری کا اعلان کرتی ہے اور آئندہ اس کیلنڈر کوچھاپنے سے پرہیز کیا جائے گا تاوقتیکہ بلوچی سال، مہینے اور دنوں کے نام متفقہ طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔

اجلاس میں گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بلوچی زبان ‘ ادب اورثقافت کے فروغ کے لیے مزید جوش وجذبے کے ساتھ اقدامات اٹھانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔

بلوچی اکیڈمی کے اجلاس میں درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:

قرارداد 1 کے مطابق یہ افسوسناک امر ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، ادارہ فروغ قومی زبان( مقتدرہ قومی زبان)، نیشنل بک فائونڈیشن، لوک ورثہ، نیشنل کونسل آف آرٹس ودیگر وفاقی ادبی وثقافتی اداروں کے سربراہان کے نامزدگی میں ہر وقت ایک صوبہ، علاقہ یا زبان کے ادیبوں، دانشوروں، محققین کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے دیگر صوبوں اور دیگر پاکستانی زبانوں کے دانشوروں کی حق تلفی ہو جاتی ہے اور انہیں شویش میں مبتلا کیاجاتا ہے۔ مجلس عمومی کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، ادارہ فروغ قومی زبان( مقتدرہ قومی زبان)، نیشنل بک فائونڈیشن، لوک ورثہ، نیشنل کونسل آف آرٹس ودیگر ادبی وثقافتی اداروں کے سربراہان کے عہدے پر تمام صوبوں اور زبانوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔2: اس قرارداد کے مطابق بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس بلوچستان میں آثار قدیمہ، تاریخی نوادرات اور مقامات کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے اداروں کی غیرسنجیدگی قرار دیتے ہوئے صوبائی اور مرکزی حکومت سے ان تاریخی آثار اور نوادرات کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان میوزیم کو دوبارہ فعال بنایا جائے۔بلوچستان بھر میں موجود آثارقدیمہ کے تحفظ ، فروغ اور محفوظ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے. اس کے علاوہ مہرگڑھ کے مقام پر بین الاقوامی معیار کا میوزیم اور تحقیقی مرکز قائم کیا جائے۔3: قرار داد 3 کے مطابق بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے موجودہ نصاب کو تبدیل کرے اور نئے نصاب میں بلوچوں کے تاریخ، زبان اور ثقافت کو نمایاں طور پر شامل کر کے نئی نسل کو حقیقی معلومات فراہم کرے ۔ بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ پہلی جماعت سے لے کر دسویں تک بلوچی زبان میں نصاب تشکیل دے اور اس کی تیاری میں بلوچی اکیڈمی کو بھی نمائندگی دی جائے۔4: اس قرار داد کے مطابق بلوچی اکیڈمی کا یہ اِجلاس وزارت اطلاعات ونشریات حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں بلوچی زبان کے پروگراموں کو زیادہ نمائندگی دی جائے اور پروگراموں کا معیار بہتر بنایا جائے۔ خصوصی طور پر پی ٹی وی بولان میں بلوچی زبان کو دوبارہ پرائم ٹائم دیا جائے۔ پی ٹی وی نیشنل پر دیگر زبانوں کی طرح بلوچی اور براہوئی زبانوں کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں اور پی ٹی وی بولان کو ایسے بلوچ پرڈیوسرز کے ماتحت کیا جائے جو بلوچی زبان، بلوچ ثقافت اور تاریخ سے آشنا ہوں. نیز پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بلوچوں کے لیے بلوچی پروگرام نشر کیے جائیں. ریڈیو پاکستان کوئٹہ اور پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ میں بلوچ فنکاروں کے مختلف پروگراموں کو پیش کرتے وقت، بلوچی زبان و ادب ، بلوچ ثقافت اور پروگرامز کے لیے معیار پرخصوصی توجہ دی جائے. ریڈیو پاکستان سبی سے وسیع ٹرانسمیٹر کے ذریعے فوری نشریات کا آغاز کیا جائے اور ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے خراب ٹرانسمیٹر کو فوری طور پر مرمت کر کے ان کے نشریات کو بلوچ علاقوں تک پہنچایا جائے. نیز F M-101 میں بلوچی کے پروگرام فوری طور پر شروع کیے جائیں۔بلوچی اکیڈمی کا یہ اجلاس وزارت اطلاعات اسلام آباد، پیمرا اور پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد اور کوئٹہ کے حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور مُلک کے دوسرے علاقوں میں کیبل آپریٹرز کو پابند بنائے کہ وہ پی ٹی وی بولان ودیگر بلوچی چینل کے پروگرامز کو اپنے نشریات میں شامل کرلیں۔

News & Updates



  

Newsletter Subscriber

Name:
Email:

Contact Info

Address: Adalat Road, Quetta, Pakistan

Phone No:  +92-81-2829566
Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.